بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے ذاتی پیسوں سے والد کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا

سوال

ہم گھر میں تین بھائی رہتے ہیں اور سب  اپنی تنخواہیں والد صاحب کو دے دیتے ہیں، میں بھی اپنی پوری تنخواہ والد صاحب  کو دیتا ہوں، البتہ  مجھے تنخواہ کے علاوہ خرچہ وغیرہ کے لیے کچھ پیسے ملتے ہیں، جس میں سے میں کچھ پیسے غرباء پر صدقہ کے طور پرخرچ کرتا ہوں، جس کے بارے میں والد صاحب اور بھائیوں کو پتہ نہیں ہوتا، کیا میرا یہ صدقہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ اپنے پیسوں سے غرباء پر جو پیسے صدقہ کے طور پرخرچ کرتے ہیں تو آپ کا  یہ صدقہ کرنا جائز ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"حكم الملك ولاية التصرف للمالك في المملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه."

(كتاب الدعوٰی، فصل في بيان حکم الملك، 263،264/6، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102417
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں