بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل کی حالت میں بیوی کو تین طلاق دینا

سوال

حالت حمل میں بیوی کو تین طلاق دینے سے  طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

شوہر اگر بیوی کو حالتِ  حمل میں تین طلاقیں  دے دے تو  تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور بیوی شوہر پر حرمتِ  مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاۓ گی۔

 تنویر الابصار مع درالمختار میں ہے:

"(‌وحل ‌طلاقهن) أي الآيسة و الصغيرة و الحامل."

(کتاب الطلاق،رکن الطلاق 3/232 ط:سعید)

ہدایہ میں ہے:

" وطلاق الحامل يجوز عقِب الجماع."

(كتاب الطلاق،باب طلاق السنة2/352 ط: مكتبه شركه عمليه،ملتان)

 فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان ‌الطلاق ‌ثلاثا ‌في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها."

(کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،1/473 ط: مکتبه ماجدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102366
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں