بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل کے دوران کان کا میل صاف کرنے کا حکم

سوال

غسل کے دوران کان کا میل صاف کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ غسل  جنابت کے دوران  پورے بدن کے ظاہری  حصے کو  جہاں تک آسانی سے ممکن ہو پانی پہنچانا فرض ہے، لہذا  کان کے ظاہری حصے کو دھونا فرض ہے ، البتہ کان کے اندرونی میل کو صاف کرنا ضروری نہیں ہے۔

درمختار ميں هے:

"(ويجب)اي يفرض(غسل)كل ما يمكن من البدن بلا حرج كالاذن."

(كتاب الطهارة، ج:1 ص: 152 ط:سعيد)

 تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"(قوله في المتن وبدنه) أي جميع ظاهر البدن حتى لو بقي العجين في الظفر فاغتسل لا يجزي وفي ‌الدرن يجزي إذ هو متولد من هناك وكذا الطين؛ لأن الماء ينفذ من هناك وكذا الصبغ والحناء انتهى."

(باب الغسل ج:1 ص:13 ط:دار الكتاب الإسلامي)

المحیط البرہانی میں ہے:

"والمرأة إذا عجنت وبقي العجين في ظفرها فاغتسلت من الجنابة لم يجز، ولو بقي ‌الدرن جاز يستوي فيه القروي والمدني عند عامة المشايخ وهو الصحيح."

(كتاب الطهارة،الفصل الثالث في تعليم الاغتسال ج:1 ص:82،ط:دارالكتب العلمية،بيروت۔)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102361
تاریخ21-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں