بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل طلاق کی صورت میں عدت کا حکم

سوال

ایک لڑکی کا نکاح ہوا لیکن رخصتی سے پہلے ہی اس کے ناجائز حمل رہ گیا ،جب شوہر کو معلوم ہوا تو اس نے طلاق دے دی،سوال یہ ہے کہ اس پر عدت واجب ہوگی یا نہیں ؟ اور عدت کی مدت کتنی ہوگی ؟

جواب

 اگر   نکاح  کے بعد  رخصتی /خلوتِ صحیحہ ( لڑکا اور لڑکی ایسی تنہائی میں ملیں کہ دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہ ہو اور ہم بستری کرنے سے کوئی شرعی ،  طبعی یا حسی  مانع  نہ ہو )  سے  پہلے طلاق ہوجائے تو ایسی صورت میں آدھا مہر ادا کرنا لازم  ہے اور  لڑکی پر کوئی عدت بھی نہیں  ہوتی ہے ، اورخلوتِ صحیحہ  ہونے کی صورت میں پورا مہر ادا کرنا ہوگا  اور  پوری عدت  (تین ماہواریاں ) بھی گزارنی ہوگی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا تجب العدة على الزانية وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما اللّه تعالى كذا في شرح الطحاوي."

(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج: ١، ص: ٥٢٦، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ولا عدة على الزانية حاملا كانت أو غير حامل؛ لأن الزنا لا يتعلق به ثبوت النسب".

(كتاب الطلاق، فصل في توابع الطلاق،ج: ٣، ص: ١٩٢، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102257
تاریخ19-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں