بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لائف انشورنس کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام لائف انشورنس کے بارے میں کہ آپ ماہانہ 10000رقم جمع کیا کریں بیس سال تک جو کہ 2400000جوبیس لاکھ روپے بنتے ہیں واپسی پر آپ کو 25 یا 30لاکھ ملیں گے اور اگر درمیان معاہدہ مرگئے تو بھی زیادہ دیں گے؟

جواب

لائف انشورنس  کے جتنے مروجہ طریقے ہیں وہ سود اور قمار (جوا) کا مرکب ہیں۔ سود اور قمار کا لین دین شریعت مطہرہ میں بنصِ قرآنی حرام ہے؛  لہٰذا کسی بھی شخص کے لیے کسی بھی انشورنس کمپنی کے ساتھ کسی بھی قسم کی انشورنس/بیمہ کا کوئی معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے ہماری ویب سائٹ کا درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

انشورنس کی شرعی حیثیت

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102255
تاریخ19-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں