بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عمیش نام رکھنا

سوال

 عمیش نام رکھنا درست ہے یا نہیں اور اس کا مطلب کیا ہے؟

جواب

عمیش یہ "عمش" سے ہے، اور اس کے مختلف معانی آتے ہیں، مثلا: 

۱- بلا قصد لاٹھی سے مارنے والا۔

۲- کمزور آنکھوں والا، جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا ہو۔

۳- بیماری ختم ہوکر صحت مند بدن  والا ۔ 

لیکن یہ معنے بھی ایسے اچھے نہیں کہ جن کی بنا پر یہ نام رکھا جائے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا دیگر بزرگوں کے ناموں میں سے انتخاب کرلیا جائے۔ 

"فلاناً ـِ عَمْشاً: ضربه بالعصا بلا تعمّد.( عَمِشَ ) فلانٌ ـَ عَمَشاً: ضعف بصره مع سيلان دمع عينه في أكثر الأوقات. فهو أعمش، وهي عمشاء. ( ج ) عُمْش. وـ جسمُ المريض: رجع إلى ما كان عليه من الصحّة قبل المرض. وـ فيه الكلامُ: نجع. يقال: فلان تعمش فيه الموعظة.( عَمَّشَ ) عن الشيء: تغافل عنه. وـ فلاناً: أزال عمشه. وـ اللهُ المريضَ: ردّ عليه صحته.( اسْتَعْمَشَه ): استحمقه.( العَمْش ): ما يكون فيه صلاح البدن وزيادته. وـ الشيء الموافق. يقال: هذا الطعام عَمْش لك. (المعجم الوسيط)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102254
تاریخ19-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں