بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر نقدی سے زکات ادا ہوجاتی ہے

سوال

 ایک شخص پر زکوٰة فرض ہے لیکن زکوٰة کی ادائیگی کے لیے نقدی موجود نہیں تو کیاگھر کےغیراستعمال شدہ نئے کپڑے،  برتن،  بسترواشیاۓخوردونوش یعنی آٹا چاول دال گھی وغیرہ زکوٰة کی نیت سےکسی مستحق کو دے  توزکوۃ اداہوجائیگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ اشیا ءمستحقِ زکات کو دینے سے زکات ادا ہوجائے گی۔( پہلے کسی سے ان اشیاء کی موجودہ قیمت لگوا لیں،پھر وہ قیمت / رقم زکوۃ کی مد میں منہا کر لیں۔)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"غیر نقد سے زکوۃ کی ادائیگی 

...

ان صورتوں میں جب مقدار واجب مستحق کو بنیتِ زکوۃ تملیکاً دے دی جائے تو ادا ہوجائے گی ..."

(کتاب الزکاۃ، باب اداء الزکاۃ، ج۹، ص۴۶۹، دار الافتاءجامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102173
تاریخ18-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں