بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح کون پڑھا سکتا ہے؟

سوال

نکاح کون پڑھا سکتا ہے؟

جواب

ہر وہ شخص نکاح پڑھا سکتا ہے جو ایجاب و قبول کی درست تعبیر کرسکے، تاہم جو شخص دین دار ہو، مسائل ِنکاح سے واقف ہو اور مسنون خطبہ پڑھ سکتا ہو اس کا نکاح پڑھانا مستحب ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"الوكيل ‌في ‌باب النكاح ليس بعاقد بل هو سفير عن العاقد ومعبر عنه بدليل أن حقوق النكاح والعقد لا ترجع إلى الوكيل."

(كتاب النكاح، فصل:وأما شرائط الركن فأنواع، 2/ 232، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويندب إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة ‌بعاقد ‌رشيد وشهود عدول."

(كتاب النكاح، 3/ 8، ط: سعيد)

الموسوعة الفقهية الكويتية  میں ہے:

"نص الحنفية على أنه يندب أن يكون النكاح ‌بعاقد ‌رشيد وشهود عدول، فلا ينبغي أن يعقد مع المرأة بلا أحد من عصبتها، ولا مع عصبة فاسق، ولا عند شهود غير عدول، خروجا من خلاف الإمام الشافعي الذي يرى أن الذي يجري العقد وليها.

ونص المالكية على أنه يندب تفويض ولي المرأة ومثله الزوج العقد لفاضل ترجى بركته، وأما تفويض العقد لغير فاضل فهو خلاف الأولى."

(نكاح، مايسن في النكاح، 41/ 222)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’شرعاً پورا اختیار ہے جس کے ذریعے دل چاہے نکاح پڑھوالیا جائے، کسی خاص نکاح خواں کی کوئی قید نہیں ہے، لہذا جو شخص دین دار اور مسائل نکاح سے واقف ہو اس سے پڑھوایا جائے۔‘‘

(كتاب النكاح، زير عنوان: نكاح كس سے پڑھوایا جائے؟،ج: 10، ص: 594، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102154
تاریخ18-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں