بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کو جنابت کے بعد غسل سے پہلے حیض شروع ہو جائے تو غسل کب لازم ہو گا؟َ

سوال

جماع ہوا اور ابھی عورت نے غسل بھی نہ کیا تھا کہ حائضہ ہوگئ اب غسل جنابت کا کیا حکم ہے؟

جواب

جماع کے بعدغسل سے پہلے اگر عورت کوحیض کا خون شروع ہوجائے تو فوری طور پر غسل کرنا ضروری نہیں، بلکہ جب حیض کا خون بند ہوجائے تب غسل کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) عند (انقطاع حيض ونفاس) هذا وما قبله الحكم إلى الشرط: أي يجب عنده لا به، بل بوجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل كما مر."

(رد المحتار (1 / 165) ط: سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند  میں ہے:

"سوال: ایک شخص اپنی بیوی سے ہم بستر ہوا، صبح کو اس کی بیوی حائضہ ہوگئی تو اس کی بیوی پر غسلِ  جنابت فرض ہے یا نہیں؟

جواب:غسلِ  جنابت اس پر فرض نہیں رہا، حیض سے پاک ہو کر غسل کرے۔"

(فتاوی دار العلوم دیوبند ، کتاب الطہارات 1 / 135 ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102153
تاریخ18-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں