بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی کے لیے عزوہ نام رکھنا

سوال

عِزوہ نام کا معنٰی  کیا ہے؟ کیا یہ نام لڑکی کے لیے رکھ سکتے ہیں؟

جواب

"عِزوۃ" کامعنٰی ہے: "منسوب کرنا، صبر کرنا"، بچی کے لیے یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کے لیے ازواجِ مطہرات، دیگر صحابیات یا تابعات کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے۔

الصحاح تاج اللغۃ وصحاح العربیۃ میں ہے:

"‌‌[عزا] عزوته  إلى أبيه، وعزيته لغة، إذا نسبته إليه، فاعتزى هو وتعزى، أي انتمى وانتسب."

(حرف الواو  والياء، فصل العين، 2425/6، ط: دار العلم للملايين)

لسان العرب میں ہے:

"عزا: العزاء: الصبر عن كل ما فقدت .... وعزا فلان نفسه إلى بني فلان يعزوها عزوا وعزا واعتزى وتعزى، كله: انتسب، صدقا أو كذبا، وانتمى إليهم مثله، والاسم العِزْوة."

(حرف الواو والياء، فصل العين المهملمة، 52/15، ط: دار صادر)

معجم متن اللغۃ میں ہے:

"عزاه- عزوا وعزيا إلى أبيه: نسبه إليه، وهو من حسن العِزوة والعِزية. و- إليه و- له: انتسب إليه صدقا كان أو كذبا. والاسم العِزْوة والعزاء. و- الحديث أو الكلام لفلان: أسنده إليه."

(حرف العين، 98/4، ط: دار مكتبة الحياة)

مصباح اللغات میں ہے:

"الْعِزْوَۃُ: انتساب، صبر۔"

(حرف العین، عزی، ص: 550، ط: قدیمی کتب خانہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102104
تاریخ16-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں