بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو ماہ کی نمازوں کا کفارہ؟

سوال

ہماری ماں وفات ہوگئی ہے، ان سے دو مہینوں کی نمازیں فوت ہوئی ہیں۔ان کا کتنا فدیہ دے دوں؟

جواب

ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے،  اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں، تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا آٹا یا اس کی قیمت ہے،  لہذا  روزانہ چھ نمازوں کی حساب سے دو مہینوں کی (۳۶۰)نمازوں کا فدیہ ادا کریں۔

"إذا مات الرجل، وعليه صلوات فائتة، وأوصى بأن يعطى كفارة صلاته، يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر، وللوتر نصف صاع، ولصوم يوم نصف صاع ".

(البحر الرائق: كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت (2/ 98)، ط.  دار الكتاب الإسلامي، الطبعة الثانية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102075
تاریخ16-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں