بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لیٹ فیس ادا کرنے کی صورت میں جرمانے کا حکم

سوال

اگر اسکول والے فیس میں 10 تاریخ کے بعد جرمانہ لگائیں تو یہ سود ہو گا ؟ نیز اگر وہ ماہانہ فیس میں اضافہ کر دیں اور جو بندہ 10 تاریخ سے پہلے ادا کرے اس کو مثلاً 10 فیصد رعایت دیں تو یہ سودنہیں ہو گا ؟ حالاں کہ نتیجہ دونوں صورت میں ایک ہی ہے۔

جواب

 واضح رہے کہ فیس کی ادائیگی میں  تاخیر پر مقررہ فیس سےزائد  رقم وصول کرنا مالی  جرمانہ ہے، اسی طرح فیس  کی رقم میں اضافہ کرنا تاکہ لوگ جلدی جمع کروائیں اور جلدی جمع کروانے کی صورت میں  دس فیصد واپسی کی شرط لگانا اس بات کی علامت ہے کہ دس فیصد فیس کاحصہ نہیں ہے لہذا پہلی صورت کی طرح دوسری صورت بھی ناجائز ہے ۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي حرّة الرُقاشيّ عن عمه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم: ألا تظلموا ألا لا يحلّ مال امرئ إلاّ ‌بطيب نفس منه".

( کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ، رقم الحدیث:۲۹۴۶،ج:۲،ص:۸۸۹،ط:المکتب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے :

"والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".

( كتاب الحدود، باب التعزير،61/4، سعيد) 
فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407102009
تاریخ15-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں