بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کا گوشت خود استعمال کرنے کا حکم

سوال

اگر میں صدقہ کرتا ہوں  توکیا صدقہ کرنے کے بعد اس صدقے کے گوشت سے خود اور میرے گھر والے بھی کھاسکتے ہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  اگر جانور نفلی صدقہ کے طور پر ذبح کیا ہے، تو اس جانور میں سے اپنے اور گھر والوں  کے لیے  گوشت استعمال کرنا جائز ہے، البتہ اگر کسی وجہ سے صدقہ نکالا جا رہا ہو،مثلاً: کسی حادثہ یا بیماری کے سبب صدقہ کر رہا ہو تو صدقہ کرنے والا اس صدقہ میں سے نہ کھائے، اور جو افراد اس کی کفالت میں ہیں ان کو بھی نہ کھلائے، بلکہ اس صورت میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ  سارا کا سارا کسی مستحق شخص کو دے دیں ۔
اور اگر وہ جانور واجب صدقہ مثلاً نذر پوری کرنے کے لیے  ذبح کیا تھا، تو اس صورت میں پورے جانور کو مستحقین میں تقسیم کرنا ضروری ہے، اس میں سےنہ خود کھا سکتا ہے اور  نہ گھر والے کھا سکتے ہیں، اور نہ ہی مالدار لوگ کھا سکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله ‌ويأكل ‌من ‌لحم ‌الأضحية إلخ) هذا في الأضحية الواجبة والسنة سواء إذا لم تكن واجبة بالنذر، وإن وجبت به فلا يأكل منها شيئا ولا يطعم غنيا سواء كان الناذر غنيا أو فقيرا لأن سبيلها التصدق وليس للمتصدق ذلك، ولو أكل فعليه قيمة ما أكل زيلعي".

(کتاب الاضحیۃ،ج:6،ص:328،سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101924
تاریخ14-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں