بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے پنجرہ رکھا ہو تو نماز کا حکم

سوال

پنجرے کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  نماز کی حالت میں نمازی  کے سامنے اگرکوئی پنجرہ رکھا ہوا ہو   جس میں کوئی پرندہ ہو  یا نہ ہو   تو اس سے نماز پر کوئی  اثر نہیں پڑے گا ، البتہ اگر پنجرہ میں رکھے ہوئے پرندے سے یہ اندیشہ ہو کہ اس سے نمازی  کی توجہ متاثرہوگی  تو اس سے نماز میں کراہت آئے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومرور المرأة والحمار والكلب بين يدي المصلي لا يقطع الصلاة ۔۔۔ وروي عن «ابن عباس - رضي الله عنه - أنه قال: زرت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مع أخي الفضل على ‌حمار في بادية فنزلنا فوجدنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يصلي فصلينا معه والحمار يرتع بين يديه» ، وفي بعض الروايات والكلب والحمار يمران بين يديه."

(كتاب الصلوة،فصل في بيان حكم الاستخلاف،ج:،۱ص:۲۴۱، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101894
تاریخ14-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں