حالتِ حیض میں جماع کرلیا، تو توبہ و استغفار لازم ہے
سوال
ایک شخص نےحیض کی حالت میں اپنے بیوی سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے؟
جواب
حالتِ حیض میں جماع کرنا ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا گر کوئی شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرلے، تو اس پر لازم ہے کہ صدقِ دل سے توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ اس طرح کے کام سے مکمل اجتناب کرے اور مستحب یہ ہے کہ اپنی استعداد اور طاقت کے بقدر کچھ رقم بھی صدقہ کردے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ [البقرة:222]
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

