بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حیض میں جماع کرلیا، تو توبہ و استغفار لازم ہے

سوال

ایک شخص  نےحیض کی حالت میں اپنے بیوی سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

حالتِ حیض میں جماع کرنا ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا گر کوئی شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرلے، تو اس پر لازم  ہے کہ صدقِ دل سے توبہ اور استغفار کرے اور آئندہ اس طرح کے کام سے مکمل اجتناب کرے اور مستحب یہ ہے کہ اپنی استعداد اور طاقت کے بقدر کچھ رقم بھی صدقہ کردے۔

قرآنِ  کریم میں ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ [البقرة:222]

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101878
تاریخ14-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں