بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاملہ خاتون کودی ہوئی طلاق کے واقع ہونے کا حکم

سوال

حاملہ عورت کو طلاق دی گئی ہے، یہ  طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حمل طلاق کے لئے مانع نہیں ہے، لہذا حاملہ خاتون کو دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"(قوله وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع؛ لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة) إن اعتبر حاظرا؛ ولأنه زمان الرغبة في الوطء لكونه غير معلق؛ لأنه اتفق أنها قد حبلت أحبه أو سخطه فبقي آمنا من غيره فيرغب فيه لذلك، أو لمكان ولده منها؛ لأنه يتقوى به الولد فيقصد به نفعه".

(کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ، ج:3، ص:478، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101728
تاریخ13-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں