بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کو کلام کیوں کہتے ہیں؟

سوال

قرآن مجید کو کلام کیوں کہا گیا ہے؟

جواب

قرآنِ مجید کے منجملہ ناموں میں سے ایک نام "کلام اللہ" ہے، قرآنِ مجیدکو" کلام " یا "کلام اللہ" اس وجہ سے کہتے ہیں کیوں کہ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے،اور  یہ کلام اللہ تعالی کی صفت ِازلی میں سے ہے۔

"الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ"میں ہے:

"وقد سمى الله تعالى القرآن بخمسة وخمسين اسما: سماه كتابا، ومبينا، وقرآنا، وكريما، وكلاما، ونورا، وهدى، ورحمة، وفرقانا، وشفاء، وموعظة، وذكرا، ومباركا، وعليا، وحكمة. . . "

(قرآن،ج:33،ص؛30،ط:دار الصفوۃ)

"التلویح علی التوضیح "میں ہے:

"لأن القرآن اسم يطلق على الكلام الأزلي وعلى المقروء فهذا تعيين أحد محتمليه، وهو المقروء) فإن القرآن لفظ مشترك يطلق على الكلام الأزلي الذي هو صفة للحق عز وعلا ويطلق أيضا على ما يدل عليه."

(الركن الأول في الكتاب أي القرآن،ج:1،ص:49،ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101698
تاریخ12-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں