بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شکار کو گولی نہ لگنے سے بیوی کو طلاق ہوتی ہے؟

سوال

اگر شکاری شکار پر تکبیر پڑھ کر بندوق چلائے اور شکار کو گولی نہ لگے تو شکاری کے لیے اسلام میں کیا جرم ہے یا سنا ہے کہ اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی ؟کیا یہ حقیقت ہے؟

جواب

اگر شکاری شکار پر تکبیر پڑھ کر بندوق چلائے اور شکار کو گولی نہ لگے تو شکاری کے لیے کوئی سزا نہیں، باقی یہ بات کہ اگر جانور کو وہ گولی نہیں لگی تو اس شکاری کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی یا یہ گناہ گار ہوگا یہ باتیں درست نہیں ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قال قاضي خان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح؛ لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك وخرقه بحده حل أكله."

( کتاب الصید، 6/471، ط:ایچ ایم سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101626
تاریخ11-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں