بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا عورت کو حمل ہونے کے بعد حیض آتا ہے؟

سوال

کیا عورت کو حمل ہونے کے بعد حیض آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  حمل کے زمانے میں رحم کا منہ بند ہوتا ہے، اس لیے حمل کے دوران حیض نہیں آتا اور ماہانہ جو خون آتا ہے وہ رگوں میں جمع رہتا ہے اور بچے کو بچہ دانی کے اندر اس سے غذا پہنچتی رہتی ہے اور اس سے بچے کی پرورش ہوتی ہے، اس لیے اگر    حمل کے دوران ولادت سے پہلے خون جاری ہو تو وہ استحاضہ کا خون ہوتا ہےحیض کا نہیں،نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا لازم ہوتا ہے۔ 

"الدر المختار وحاشية ابن عابدين" میں ہے:

" (وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة.)

(قوله ولو قبل خروج أكثر الولد) حق العبارة أن يقال ولو بعد خروج أقل الولد (قوله استحاضة)."

( كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1، ص:275، ط: دار الفكر )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101541
تاریخ09-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں