بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچی کا ناخن پالش کے ساتھ قرآن مجید پڑھنا

سوال

نابالغ بچی ناخن پالش لگا کر قرآن پڑھ سکتی ہے؟

جواب

ناخن پالش جس کی تہہ ناخن میں جم جاتی ہے اگر ناخن پر استعمال کی گئی ہے، تو وضو اور غسل درست نہیں ہوتا،جب کہ قرآن مجید  کو حدث کی حالت میں چھونا جائز نہیں ہے،لیکن یہ حکم بالغ مرد وعورت کا ہے،البتہ نابالغ بچوں کے لیے قرآن مجید بے وضو چھونے کی ممانعت نہیں ،اس لیے ناخن پالش کے ساتھ اگروضو نہیں ہوتا تب بھی قرآن کو چھونا جائز ہے، لیکن بچی کو اس کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ولا) يكره (مس صبي لمصحف ولوح) ولا بأس بدفعه إليه وطلبه منه للضرورة إذ الحفظ في الصغر كالنقش في الحجر.

(قوله: ولا يكره مس صبي إلخ) فيه أن الصبي غير مكلف والظاهر أن المراد لا يكره لوليه أن يتركه يمس، بخلاف ما لو رآه يشرب خمرا مثلا فإنه لا يحل له تركه.

(قوله: ولا بأس بدفعه إليه) أي لا بأس بأن يدفع البالغ المتطهر المصحف إلى الصبي، ولا يتوهم جوازه مع وجود حدث البالغ ح.

(قوله: للضرورة) لأن في تكليف الصبيان وأمرهم بالوضوء حرجا بهم، وفي تأخيره إلى البلوغ تقليل حفظ القرآن درر قال ط وكلامهم يقتضي منع الدفع والطلب من الصبي إذ لم يكن معلما."

(کتاب الطہارۃ،ج1،ص174،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101472
تاریخ08-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں