بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق یافتہ یا متوفی عنہا زوجہا حاملہ کی دوران عدت نکاح کرنا

سوال

طلاق شدہ یا متوفی عنہا زوجہا حاملہ سے دورانِ حمل نکاح ہو سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق یافتہ یا متوفی عنہا زوجہا حاملہ عورت کی عدت وضع حمل سے ہی مکمل ہوگی اور عدت کے دوران  نکاح کرنا شرعا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں  عدت کے گزرنے (وضع حمل) تک ایسی  عورت آگے  نکاح  نہیں کرسکتی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير: 1/ 280، ط: ماجدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه ‌لم ‌يقل ‌أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا."

(‌‌كتاب النكاح، مطلب في النكاح الفاسد: 3/ 132، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101445
تاریخ08-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں