بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زلزلہ کی وجہ سے نماز توڑنے کا حکم

سوال

جماعت کے دوران اگر زلزلہ آ جائے تو امام کے لیے کیا حکم ہے؟ نماز توڑ دےیا جاری رکھے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  زلزلہ کی وجہ سے جان جانے کا اگر خطرہ ہو، تو نماز توڑ سکتے ہیں۔

المصنف لعبد الرزاق میں ہے:

"٣٢٨٨ - عن معمر، عن الحسن، وقتادة في رجل كان يصلي فأشفق أن يذهب دابته أو أغار عليها السبع؟  قالا:  «ينصرف»، قيل: أفيتم على ما قد صلى؟ قال معمر: أخبرني عمرو، عن الحسن، أنه قال: «إذا ولى ظهره القبلة استأنف الصلاة."

( كتاب الصلاة، باب الرجل يكون في الصلاة فيخشى أن يذهب دابته أو يرى الذي يخافه، ٢ / ٢٦١، ط: المجلس العلمي- الهند)

رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:

"ويباح قطعها لنحو قتل حية، وند دابة، وفور قدر، وضياع ما قيمته درهم له أو لغيره.

ويستحب لمدافعة الأخبثين، وللخروج من الخلاف إن لم يخف فوت وقت أو جماعة

ويجب لإغاثة ملهوف وغريق وحريق ... الخ"

( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ١ / ٦٥٤، ط: دار الفكر )

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101431
تاریخ08-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں