بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنت میں نفل کی نیت کرنا

سوال

کیا پیر اور جمعرات کے سنت روزوں کے ساتھ نفل کی بھی نیت کر سکتے ہیں ؟ 

جواب

 پیر اور جمعرات کا روزہ سنت سے ثابت ہے، اور حکم کے اعتبار سے مستحب ہے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کے روزے رکھتے تھے،کسی بھی نفلی عبادت کی ادائیگی میں متعدد نیتیں کی جاسکتی ہیں، لہذا پیر اور جمعرات کا روزہ سنت اور نفل دونوں نیتوں کے ساتھ رکھنا درست ہے ۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة و عيد وجمعة اجتمعت ونال ثواب الكل، وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى، وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي".

(باب شروط الصلاة وأركانها: 1/216، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101329
تاریخ07-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں