بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلام میں ٹریڈنگ کا حکم

سوال

ٹریڈنگ اسلام میں جائز ہے یا حرام؟

جواب

ٹریڈنگ  کے معنی  تجارت یعنی خرید و فروخت کے ہوتے ہیں،پس حلال چیزوں کی  خرید و فروخت  اسلام میں  جائز ہے، بشرطیکہ کے خرید و فروخت کے صحیح ہونے کی رعایت رکھی جائے، اور حرام و ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت اسلام میں ناجائز و حرام ہے،لہذا ٹریڈنگ کا طریقہ لکھ کر دارلافتاء سےدوبارہ رجوع کریں۔

النهاية في شرح الهداية میں ہے:

" وأما ركنه فالإيجاب والقبول على ما يجيء.

وأما شرطه فأنواع منها في العاقد، وهو أن يكون عاقلا مميزا، ومنها في الآلة وهو أن يكون بلفظ الماضي، ومنها في المحل وهو أن يكون مالا متقوما، وأن يكون مقدور التسليم، ومنها التراضي، ومنها شرط النفاذ، وهو الملك والولاية."

( كتاب البيوع، ركن البيع وشروطه، ١٣ / ٧، ناشر: مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة والدراسات الإسلامية بجامعة أم القرى)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101326
تاریخ07-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں