بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد ومدرسہ کےلیے چندہ کرنے کاحکم

سوال

مسجد مدرسے کے لیے چندہ مانگنا اپنی بستی  میں یاپھر پھرکر لوگوں سے شرعاً کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر علاقے کے لوگوں کی تعاون سے مسجد و مدرسہ کے اخراجات پورا کرنا مشکل ہوں تو مسجد و مدرسے کے اخراجات کے لیے چندہ مانگنا اور اپنی بستی میں چندہ کے لیے جانا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: يعم ‌الساعي) هو من يسعى في القبائل لجمع صدقة السوائم والعاشر من نصبه الإمام على الطرق ليأخذ العشر ونحوه من المارة."

(كتاب الزكوة،باب مصرف الزكوة ،ج:2،ص:339،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل أعطى درهما في عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد صح."

(كتاب الوقف، الباب الحادي عشر،ج:4،ص:460۔ط:رشيديه)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101317
تاریخ07-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں