بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایسے شخص کو دکان بیچنا جس کا پتہ نہ ہو کہ وہ اس میں کیا کاروبار کرے گا

سوال

 ہماری والدہ کی ایک دوکان کے سامنے شراب کی دوکان ہے، جس کا مالک ہم سے دوکان خریدنا چاہتا ہے، کیا اسے دوکان فروخت کرنا جائز ہے ؟جب کہ ہمیں معلوم بھی نہ ہو کہ وہ ہم سے دوکان خریدنے کے بعد اس میں کون سا کاروباروغیرہ کرے گا؟ مزید یہ کہ فروخت سے حاصل رقم سے قربانی اور زکوۃ ادا کی جاسکتی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتا آپ  لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ مذکورہ شخص دکان خریدنے کے بعد اس میں کون سا کاروبار کرے گا تو اس کو دکان بیچنا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها نهر 

(قوله: نهر) عبارته: وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه العازف."

(کتاب الجهاد , باب البغاۃ جلد 4 ص: 268 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101294
تاریخ06-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں