بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منقولی اشیاء کو قبضہ سے پہلے بیچنے کاحکم

سوال

بغیر قبضہ لیےمال تجارت(دال چھلکہ وغیرہ ) خرید و فروخت کرنے کا کیا حکم ہے۔؟

جواب

صورت مسئولہ میں منقو لی اشیا ء کو قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے ،لہذا دال چھلکہ وغیرہ کوبھی قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه  لا بیع منقول  ) قبل قبضه ولو من بائعه."

(فصل فی التصرف فی المبیع، 147/5،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101293
تاریخ06-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں