بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مُرسِب‘‘ نام رکھنے کا حکم

سوال

’’مُرسِب‘‘ نام رکھنے کا حکم کیا ہے؟کیا یہ حضرت سلیمان کی تلوار ہے جو ملکہ بلقیس نے دی تھی؟

جواب

’’مُرسِب‘‘ (’’م‘‘ کے پیش ’’ر‘‘ کے سکون اور ’’س‘‘ کے زیر کے ساتھ) نام رکھنا درست ہے، اور یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تلوار کا نام ہے،  حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ السلام کی تلوار کا نام ’’مُرسِب‘‘ نہیں تھا، بلکہ اس کا نام ’’رَسُوب‘‘ تھا، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔

المنمق فی اخبار قریش میں ہے:

"كان لخالد بن الوليد بن المغيرة ثلاثة أسياف: المرسب  وهو ذو القرط وآخر يقال له الأدلق وآخر يقال له القرطبي."

(سيوف قريش، ص: 415، ط: عالم الكتب)

تاريخ الخميس في احوال انفس النفيس ميں هے:

"وفى القاموس أو هو يعنى’’ الرسوب‘‘ من ‌السيوف ‌السبعة التى أهدت بلقيس لسليمان عليه السلام."

(وأما أسلحته وآلات حربه عليه السلام، ج: 2، ص: 188، ط: دار صادر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101263
تاریخ06-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں