بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام لکھوانا جائز ہے یا نہیں؟

سوال

 شناختی کارڈ یا کسی بھی سرٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے بجائے سوتیلی ماں کا نام لکھوانا جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

شناختی کارڈ  يا کسی بھی سر ٹیفکیٹ میں حقیقی ماں کے  بجائے سوتیلی ماں کا نام درج کرانا جھوٹ ،دھوکا دہی اورخلاف حقیقت ہے جو کہ ناجائزہے ۔  

مارواہ الإمام أحمد في مسنده:

"حدثنا وكيع قال: سمعت الأعمش قال: حدثت عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

(ج:36،ص:504،رقم الحدیث:22170،ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:" حضرت ابی امامہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ہر خصلت  پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے"۔

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101242
تاریخ06-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں