بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیدین کی نماز پڑھانے کی اجرت لینے کا شرعی حکم

سوال

 کیا عیدین کی نماز پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

فرض نماز پڑھانے  ( یعنی امامت) اور تعلیمِ قرآن (قرآن سکھانے اورپڑھانے)  کی اجرت لینے کو  حضرات ِ متأخرینِ احناف نے بوجہ ضرورت جائز قرار دیا ہے، لیکن یہ اجرت اصل میں نماز  یا قرآن پڑھانے کی نہیں ہوتی، بلکہ ان کاموں کے لیے اپنے آپ کو محبوس  اور دیگر کاموں سے فارغ رکھ کر وقت دینے کی ہے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص    عیدین کی نماز  پڑھاکر طے کردہ اجرت لے تو یہ جائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أن أخذ ‌الأجرة ‌على ‌الطاعة لا يجوز مطلقا عند المتقدمين، وأجاز المتأخرون على تعليم القرآن والأذان والإمامة."

(ج:2، ص: 199، ط: دارالفکر بیروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101096
تاریخ03-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں