بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق نے اگر امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو سجدہ سہو کرے گا یا نہیں؟

سوال

اگرامام کے ساتھ نمازپڑھ رہاہے  اورایک رکعت چھوٹ گئی ہو اورامام کے ساتھ سلام پھیرا ایک طرف، پھرواپس کھڑاہوگیاتوسجدہ سہوہ کرے گایانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مسبوق نے  امام سے پہلے یابالکل ساتھ ذرا بھی تاخیر کیے  بغیر ( ایسا بہت نادر ہوتا ہے)  سلام پھیرا ہو تو اس صورت میں سجدۂ سہو اس پر واجب نہ ہوگا، البتہ  امام کے بعد  یاکچھ تاخیر سے سہواً سلام پھیرا ہو تو اس صورت میں سجدۂ سہو کرنا واجب ہوگا،تاہم اگر نماز مکمل ہونے کے خیال سے مسبوق نے عمدا سلام پھیرا ہو تو اس صورت میں اس کی نماز باطل ہوجائے گی، نئے سرے سے نماز ادا کرنا ضروری ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء."

(کتاب الصلوۃ ، باب سجود السهو جلد 2 ص: 82 , 83 ط: دارالفکر)

فقط و اللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101091
تاریخ03-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں