بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیلنس ختم ہو نے کی صورت میں ایڈوانس لینے کاحکم

سوال

موبائل میں اگر بیلنس ختم ہو جائے تو کیا کمپنی سےلون یا ایڈوانس لینا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں موبائل کمپنی سم میں ایڈوانس بیلنس حاصل کرنے کی صورت میں  کچھ رقم اضافی لیتی ہے، اگر یہ زائد رقم محض خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے (یعنی سروس چارجز کی مد میں زائد رقم لیتی ہے) تو موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس لینا جائز ہے،بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو مسیج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی ایڈوانس کی سہولت دے کر  اس پر جو کچھ رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے، لہذا ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس بیلنس کی سہولت حاصل کرنا جائز ہے،اور اگر کمپنی بطورِ قرض دے کر زائد رقم وصول کرے تو پھر لون لینا ناجائز ہوگا۔

الہدایۃ شرح البدایۃ میں ہے:

"الإجارة عقد على المنافع بعوض لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع."

(كتاب الإجارة،231/3،المكتبة الإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"كلّ قرض جرّ نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن."

(مطلب كلّ قرض جرّ نفعًا حرام،166/5، سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101088
تاریخ03-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں