بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نعرہ تکبیر کے جواب میں زندہ باد کہنا

سوال

ہمارے یہاں پر ایک اجتماعی پروگرام ہوا ہے،  جس میں لوگوں نے نعرے لگانے شروع کر دیے اور نعرائے تکبیر کے جواب میں زندہ باد،  زندہ  باد کے نعرے لگائے،  کیا اس طرح سے نعرے لگانا صحیح ہے؟ اور ان کی اس لاعلمی وجہ وہاں کے عالم ہیں۔

جواب

نعرہ تکبیر کے جواب میں تکبیر(اللہ اکبر) کہنا چاہئے، زندہ باد نہیں کہنا چاہئے، تاہم نعرہ تکبیر کے جواب میں لاعلمی کی وجہ سے زندہ باد کہنے سے وہ لوگ گناہ گار نہیں ہوئے، اور نیز اس وجہ سے وہاں کے عالم دین کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا  بھی درست نہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101068
تاریخ03-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں