بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ہنسانے کا حکم

سوال

نماز میں ہنسانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز میں  ہنسنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر یہ ہنسی قہقہہ کے درجے  کی ہو تو وضوء بھی ٹوٹ جاتا ہے؛ لہذا جب ہنسنے سے نماز خراب ہوجاتی ہے تو پھر کسی شخص کے لیے نماز پڑھنے والے مسلمان کو  ہنسانا جائز نہیں ہے اور ہنسانے والا اس فعل پر گناہ گار ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها القهقهة) وحد القهقهة أن يكون مسموعا له ولجيرانه والضحك أن يكون مسموعا له ولا يكون مسموعا لجيرانه والتبسم أن لا يكون مسموعا له ولا لجيرانه. كذا في الذخيرة القهقهة في كل صلاة فيها ركوع وسجود تنقض الصلاة والوضوء عندنا. كذا في المحيط سواء كانت عمدا أو نسيانا كذا في الخلاصة.ولا تنقض الطهارة خارج الصلاة والضحك يبطل الصلاة ولا يبطل الطهارة والتبسم لا يبطل الصلاة ولا الطهارة."

(کتاب الطہارۃ، باب اول، فصل خامس ج نمبر ۱، ص نمبر ۱۲ دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407101005
تاریخ03-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں