بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نذر کا مال اپنے والدین اور اولاد کو دینا

سوال

نذر کا مال اصول فروع کو دے سکتے ہیں؟

 

جواب

نذر صدقات واجبہ میں سے ہے، جس کا مصرف زکوة  ہی کا مصرف ہے، پس جس طرح اپنی زکوة   اپنے اصول و فروع کو دینا جائز نہیں، بالکل اسی طرح سے نذر کا مال اپنے اصول و فروع پر صرف کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

 رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

"(قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) ... وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني."

( كتاب الزكاة، باب المصرف، ٢ / ٣٣٩، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100984
تاریخ02-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں