بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یشفین نام رکھنا

سوال

یشفین نام رکھنا کیسا ہے، میں نے اپنی بیٹی کا نام رکھا ہے، لیکن کچھ علماء کرام کا کہنا ہے کہ معنی اچھا نہیں ہے، دوسرا رکھیں، مہربانی کر کے راہ نمائی فرما دیں۔

جواب

”یشفین “ کلمہ   قرآن مجید کی اس آیت میں  مذکور ہے:   {وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ} [الشعراء: 80] (ترجمه : جب  میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ  (اللہ )مجھے شفا دیتا ہے)،  اور "يَشْفِينِ" بھی اصل میں "یشفینی" ہے ، یہ  متکلم کی طرف نسبت ہے، اس میں فعل "یشفي" ہے، جس کے معنی ہیں: ’’وہ شفا دیتا ہے‘‘اور "نی " مفعول ہے جس کا معنی ہے "مجھے "،  اس تفصیل سےمعلوم ہوا کہ  یہ مستقل جملہ ہے ،   فعل (Verb)   اور مفعول کے ساتھ ؛ اس لیے نام رکھنے کے لیے  یہ مناسب نہیں ہے، اس کے بجائے صحابیات  رضی اللہ عنہن  یا دیگر نیک مسلمان خواتین   میں سے کسی  کے نام پر  بچی کا نام رکھ لیں، ہماری ویب سائٹ کے اسلامی ناموں کے سیکشن سے بھی اچھے بامعنی نام منتخب کیے جاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100980
تاریخ02-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں