بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’عروہ‘‘ یا ’’ارویٰ‘‘ نام رکھنا

سوال

لفظ عروہ اور ارویٰ ان دونوں الفاظ کے معنی اور مناسبت کیا ہے؟ تفصیل چاہیے، نیز اپنی بیٹی کے لئے ان میں سےکون سا نام درست رہے گا؟ میں نے اپنی بیٹی کا نام( ارویٰ گل )رکھا ہے، کیا یہ درست ہے؟

جواب

1.’’عُرْوَه‘‘ کے معنی ہیں:  قابلِ اعتماد چیز ، حلقہ، ذریعہ اتحاد، یہ نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعینِ کرام رحمہم اللہ کے ناموں میں سے بھی ہے، یعنی مردوں کے ناموں میں سے ہے۔

2. أَرْوٰى (ہمزہ پر زبر، راء پر جزم اور واو پر کھڑا زبر پڑھا جائے گا) کا معنی ہے: خوب رُو،  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ اور کئی صحابیات رضی اللہ عنہن کا نام ’’ ارویٰ‘‘  تھا، اس نسبت سے اچھا نام ہے، لڑکی کا نام رکھ سکتے ہیں، لہذا آپ نے جو نام رکھا ہے ’’ارویٰ گل‘‘ وہ درست ہے۔

دیکھئے: (الإصابة في تمييز الصحابة:كتاب النساء، حرف الألف (8/ 7، 8، 9)، ط. دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة  الأولى : 1415 هـ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100884
تاریخ02-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں