بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں ہاتھ اٹھاکر دعا کا حکم

سوال

 قبرستان میں قبر پر کھڑے هو کر هاتھ اٹھا کر دعا کرنا شرعاً کیسا هے؟

جواب

 واضح رہے کہ قبرستان میں میت کے لئے  ایصال ِثواب کرکے مغفرت کی دعا کرنا اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا جائز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور سنت سے ثابت ہے ؛البتہ میت کو دفن کرنے کے بعد قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کی جائے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف  رخ کر کے دعا مانگی تھی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة كذا في خزانة الفتاوى."

(کتاب الکراہیۃ،الباب السادس عشر فی زیارۃ القبور،ج:۵،ص:۳۵۰،دارالفکر)

فتح الباری میں ہے :

"وفي حديث بن مسعود" رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي النجادين" الحديث وفيه: فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه."

(باب الدعاء مستقبل القبلۃ،ج:۱۱،ص:۱۴۴،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100816
تاریخ01-02-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں