بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بواسیر کے مریض کا مقعد کے ذریعہ دوائی ڈالنے سے وضو اور غسل کا حکم

سوال

اگر بواسیر کے مریض نے مقعد کے ذریعے دوائی پہنچائی تو اس صورت میں اس کے وضو  اور  غسل کا کیا حکم ہے؟  آیا اس کو وضو اور غسل از سر نو کرنا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں!

جواب

صور تِ  مسئولہ  میں  اگر  بواسیر  کے  مریض  نے  مقعد  کے  ذریعہ دوائی  پہنچائی تو  اس کا وضو ٹوٹ  جائے گا  اس پر دوبارہ وضو کرنا  لازم ہے،  البتہ  غسل کرنا لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وكل ما وصل إلى الداخل من الأسفل ثم عاد نقض لعدم انفكاكه عن بلة و إن لم يتم الدخول بأن كان طرفه في يده، كذا في الوجيز للكردري."

(کتاب الطهارۃ، الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، جلد 1 ص: 10 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100697
تاریخ30-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں