بواسیر کے مریض کا مقعد کے ذریعہ دوائی ڈالنے سے وضو اور غسل کا حکم
سوال
اگر بواسیر کے مریض نے مقعد کے ذریعے دوائی پہنچائی تو اس صورت میں اس کے وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟ آیا اس کو وضو اور غسل از سر نو کرنا ہوگا؟ رہنمائی فرمائیں!
جواب
صور تِ مسئولہ میں اگر بواسیر کے مریض نے مقعد کے ذریعہ دوائی پہنچائی تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اس پر دوبارہ وضو کرنا لازم ہے، البتہ غسل کرنا لازم نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وكل ما وصل إلى الداخل من الأسفل ثم عاد نقض لعدم انفكاكه عن بلة و إن لم يتم الدخول بأن كان طرفه في يده، كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الطهارۃ، الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، جلد 1 ص: 10 ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

