بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا والد کو حاجی جی اور والدہ کو حجن صاحبہ کہہ کر پکارنا جائز ہے؟

سوال

والدین حج کر کے آئیں، اس کے بعد اولاد ماں کو بجائے ماں کے حجّن صاحبہ اور والد کو حاجی جی کہہ کر پکارے تو اس طرح پکارنا جائز  ہے؟

جواب

تعظیم کی غرض سے والد کو حاجی جی اور والدہ کو حجن صاحبہ کہہ کر پکارنے کی گنجائش ہے۔

"الدر المختار مع رد المحتار" میں ہے:

"(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن ‌تدعو المرأة ‌زوجها باسمه) اهـ بلفظه.

(قوله ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه."

(كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:418، ط:سعيد) 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100624
تاریخ30-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں