بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سالکہ نام رکھنا

سوال

کیا لڑکی کا نام سالکہ (  "Saalkah" یا "Salka" ) رکھ سکتے ہیں؟ اور اس کا مطلب بھی بتا دیں۔

جواب

سالِکَہ سالک کی  تانیث ہے،  جس کے معنی راہِ طریقت پر چلنے والی، جو کسی مُرشد کے زیرِ ہدایت  سلوک کے منازل طے کر رہی ہو،    سفر کرنے والی ۔راہ چلنے والی  کے آتے ہیں، یہ نام رکھ سکتے ہیں،تاہم صحابیات کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب زیادہ بہتر ہوگا۔

نیز تلفظ کے اعتبار سے سالکہ کی درست  اسپیلنگ" SALIKAH" ہے۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:

" روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «سموا أولادكم أسماء الأنبياء وأحب الأسماء إلى الله تعالى؛ عبد الله، وعبد الرحمن» قال الفقيه أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن عبد الرحيم؛ لأن العجم لا يعرفون تفسيره، فيسمونه بالتصغير، وروي عن النبي عليه السلام: أنه نهى أن يسمى المملوك نافعا أو بركة، أو ما أشبه ذلك، قال الراوي:؛ لأنه لم يحب أن يقال: ليس ههنا بركة، ليس ههنا نافع إذا طلبه إنسان، وفي الأثر: «لا يقول الرجل عبدي وأمتي، بل يقول: فتاي وفتاتي» .

وفي «الفتاوى» : التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في كتابه ولا ذكره رسول الله عليه السلام، ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا تفعل."

( كتاب الاستحسان والكراهية، الفصل الرابع والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم، ٥ / ٣٨٢، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100563
تاریخ29-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں