بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو غسل دینے کے فرائض

سوال

 میت کو غسل دینےکے کتنے فرائض ہیں ؟

جواب

میت کوغسل دینےکاایک ہی فرض ہے اوروہ  یہ ہےکہ میت کے پورے جسم پرایک بارپانی بہادیاجائے،تاہم تین مرتبہ پانی بہادیناسنت ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(الفصل الثاني في الغسل) غسل الميت حق واجب على الأحياء بالسنة وإجماع الأمة، كذا في النهاية، ولكن إذا قام به البعض سقط عن الباقين، كذا في الكافي، والواجب هو الغسل مرة واحدة والتكرار سنة حتى لو اكتفى بغسلة واحدة أو غمسة واحدة في ماء جار جاز، كذا في البدائع، ويجرد الميت إذا أريد غسله وهذا مذهبنا، كذا في الظهيرية."

(كتاب الصلاة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز،الفصل الثاني في غسل الميت ج : 1 ص : 158 ط :رشيدية)

بہشتی زیور میں ہے :

"مسئلہ: غسل میں میت پرایک بارپانی بہانافرض ہے اورتین بارمسنون ہے۔"

(غسل میت کا حکم ج : 1ص : 309  ط: مجلس نشریات اسلام)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100555
تاریخ29-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں