بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی مجنون کا حکم

سوال

 جو شخص پیدائشی مجنون ہو اس کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟ اور کیا یہ مجنون بروز قیامت کسی کے لیے سفارشی ہوگا یا نہیں؟ اور کیا یہ بات سچ ہے یا کسی روایات سے ثابت ہے کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ ان مجنون لوگوں کو رضا کرے گا ؟

جواب

جس طرح شریعت نے بچوں کو  احکاماتِ شرع کا مکلف نہیں بنایا اسی طرح پاگل بھی ان احکامات کا  مکلف نہیں ہے، لہٰذا جو شخص پیدائشی مجنون  ہویا قبل البلوغ  مجنون ہو گیا ہو  تو اس پر بچوں والے احکام جاری ہوں گے۔ باقی مجنون کے سفارشی ہونے یا اس کو راضی کرنے کے متعلق کسی روایت میں کوئی تصریح نہیں ملی۔

حلبی کبیر میں ہے: 

"والمجنون کالطفل ذکره في المحیط، وینبغي أن یقید بالجنون الأصلي؛ لأنه لم یکلف فلا ذنب له کالصبي  بخلاف العارضي؛ فإنه قد کلّف، وعروض الجنون لایمحو ما قبله بل هو کسائر الأمراض، ورفعه للتکلیف إنما هو فیما یأتي لا فیما مضی. اهـ". 

(فصل في الجنائز، الرابع في الصلاة علیه، ص:587) 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100414
تاریخ28-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں