احتیاطاً تجدیدِ نکاح کے لیے شرعی گواہوں کا موجود ہونا
سوال
احتیاطاً تجدید نکاح میں گواہوں کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ جس طرح عقدِ نکاح یا تجدیدِ نکاح کے لیے شرعی گواہوں کاموجود ہونا ضروری ہے،اسی طرح احتیاطاً تجدیدِ نکاح کے لیے بھی شرعی گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرةً أو مرتين؛ إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير".
(مطلب في فرض الكفاية و فرض العين،ج:1،ص:42،ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

