بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شفیع کی زمین سے متصل زمین کو ہدیہ کرنے سے شفیع کر شفع کرنے کا حکم

سوال

کیا شفیع کی زمین سے متصل زمین کو ہبہ کرنے سے شفعہ ختم ہوجاتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زمین کے مالک نے ارضِ مشفوعہ (جس زمین پر شفیع کو شفع کرنے کا حق حاصل ہے) کسی کو بلاعوض ہبہ کردی تو شفیع کو مذکورہ زمین پر شفع کا حق حاصل نہ ہوگا، تاہم اگر مالکِ زمین مذکورہ زمین کسی مال  کے عوض ہبہ کردے تو شفیع کو مذکورہ زمین پر شفع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

فتح القدير لكمال بن الهمام میں ہے:

"قال ( ولا شفعة في هبة لما ذكرنا ، إلا أن تكون بعوض مشروط ) لأنه بيع انتهاء ، ولا بد من القبض وأن لا يكون الموهوب ولا عوضه شائعا لأنه هبة ابتداء وقد قررناه في كتاب الهبة ، بخلاف ما إذا لم يكن العوض مشروطا في العقد لأن كل واحد منهما هبة مطلقة ، إلا أنه أثيب منها فامتنع الرجوع".

(کتاب الشفعة، باب ما تجب فيه الشفعة وما لا تجب، ج:9، ص:407، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100281
تاریخ26-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں