بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر میرے شوہر کافلاں کام ہوگیاتومیں دس روزے رکھوں گی اس کے بعد اس عورت کو طلاق ہوگئی پھر اس کے شوہر کا کام ہوگیا تو کیااس عورت پر روزے رکھنا لازم ہے؟

سوال

اگر کسی عورت نے نذر مانی کہ میرے شوہر کا فلاں کام ہوگیا تو دس روزے رکھوں گی ،پھر شوہر نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد اس شخص کا وہ کام ہوگیا ،تو اس عورت پرروزے رکھنا لازم ہےیا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگرعورت نے یوں کہاکہ:اگرمیرے شوہرکا فلاں کام ہوگیاتومیں دس روزے رکھوں گی''اس کے بعد اس عورت کو طلاق ہوگئی ،طلاق کے بعد چوں کہ عورت کانکاح ختم ہوگیاہےاس کے بعد سابقہ شوہر کا وہ کام ہوگیا،تو ایسی صورت میں مذکورہ عورت پر روزے رکھنا لازم نہیں ہے۔

العنایۃ فی شرح الہدایۃ میں ہے:

" ومن حلف لا يكلم عبد فلان ولم ينو عبدا بعينه أو امرأة فلان أو صديق فلان فباع فلان عبده أو بانت منه امرأته أو عادى صديقه فكلمهم لم يحنث " لأنه عقد يمينه على فعل واقع في محل مضاف إلى فلان إما إضافة ملك أو إضافة نسبة ولم يوجد فلا يحنث."

(باب الیمین فی الکلام،مدخل،ج:2،ص:329/ 330،ط:ط:دار احياء التراث العربی - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100224
تاریخ25-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں