بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کے سامان سے کاروبار کرنا

سوال

میرے پاس 6 لاکھ روپیہ چوری کا ہے، جن سے میں نے اشیاء چوری کی اس کی قیمت اتنی بنتی ہے، اسی پیسوں سے رقم کما کر 6 لاکھ واپس دے سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ چوری کرنا حرام اور گناہ ہے ،اگر  کوئی چیز چوری کرلی تو اس کا حکم یہ ہے کہ   اگر چوری کا سامان موجود ہوتو وہ مالک کو واپس کیا جائے اگر سامان  موجود نہ ہو تو اس کی قیمت مالک کو ادا کی جائے ،چوری کے سامان یا  اس کی رقم سے  کاروبارکرنا   یا کسی اور طریقہ  سے پیسے کمانا شرعا جائز نہیں ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے :

" (وترد العين لو قائمة) وإن باعها أو وهبها لبقائها على ملك مالكها (ولا فرق) في عدم الضمان (بين هلاك العين واستهلاكها في الظاهر) من الرواية، لكنه يفتى بأداء قيمتها ديانة."

(رد المحتار4/ 110ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100193
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں