بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنات جو چیزیں یا پیسے لاتے ہیں ان کے استعمال کا حکم

سوال

میرا بھتیجا ہے اس پر جنات آتے ہیں اور جنات اس کے لئے کبھی پیسے اور کبھی خوراک کے مختلف چیزیں لاتے ہیں ۔ اب ان پیسے اور چیزوں کا استعمال کیسا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ان پیسوں یا چیزوں کا  استعمال جائز  نہیں  ہے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"دست غیب  میں یہ ہوتا ہے کہ جنات اس کام پر مسلط ہوجاتے ہیں بعض عمل میں تو وہی روپیہ جس کو خرچ  کر چکا ہے، وہ جہاں بھی ہو،  وہاں سے اٹھا لاتے  ہیں اور بعض عمل میں دوسرا  روپیہ جس جگہ ان کے ہاتھ آئے نکال لاتے  ہیں،  سو اس کی تو ایسی مثال ہے  جیسے  کوئی شخص اس کام کے لیے آدمیوں کو نوکر رکھے کہ چوری کرکے مجھ کو دیا کرو۔  اس نے یہی کام جناب سے لیا اور چوری کے ناجائز ہونے کا کسی کو انکار  ہوسکتا ہے اور اگر یہ شبہ ہو کہ ممکن ہے کہ وہ جن اپنے پاس سے لےآتے ہوں  تو چوری کہاں ہوئی؟

سو اول تو امکان  سے دوسرے احتمالات کی نفی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے  اگر اپنے ہی  پاس سے لائیں  تو بھی ظاہر  ہے کہ خوشی سے نہیں لاتے ور نہ او روں کو لا کر  کیوں نہیں دیتے؟ محض عمل سے لاتے ہیں تو کسی کو مجبور کرنا کہ اپنا مال مجھ کو دے دے خود حرام ہے اور اس تقریر سے تسخیر جنات کا ناجائز ہونا بھی سمجھ میں آگیا۔"

(فتاوی محمودیہ جلد ۲۰ ص:۳۳، بحوالہ عملیات و تعویذات اور اس کے شرعی احکام، دست غیب اور جنات سے پیسے یا کوئی چیز منگانے کا حکم ، ص: ۱۲۰، ط: ادارۃ تالیفات اشرفیہ ملتان)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100184
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں