پيسے دے كر فرضی سٹيٹمنٹ بنوانے كا حكم
سوال
بینک سے پیسے دے کر فرضی سٹیٹمنٹ بنوانا کیسا ہے ؟ جیساکہ باہر ملک جانے کے لیے سٹیٹمنٹ درکار ہوتی ہے ، اتنی رقم نہ ہونے کی وجہ سے فرضی سٹیٹمنٹ بنوانا چاہتے ہیں ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں پیسے دے کر بینک سے فرضی سٹیٹمنٹ بنوانا دھوکہ دہی ،فریب اور جھوٹ پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔
مسلم شریف میں ہے:
"عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا»."
(كتاب الإيمان ،باب قول النبي صلي الله عليه وسلم : من غشنافليس منا،،ط:رحمانية)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

