بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوت شدہ نمازوں کو ایک وقت میں ادائیگی کا طریقہ

سوال

میں صبح 10 بجے قضا کی نماز ایک وقت میں فجر کی نماز ظہر کی نماز اس طرح ساری وقتوں کی نماز پڑھ سکتا ہوں؟ ایک دن میں کتنی رکعت پڑنا چاہیے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں ایک وقت میں جتنی قضا فرض نمازیں ادا کرنے کی طاقت ہو، کرسکتے ہیں،  ہر فرض کے ساتھ  ایک فرض کی قضا کرنا ضروری نہیں، البتہ اگر  بہت زیادہ نمازیں قضا ہوں، اور انہیں ان کی ادائیگی مشکل محسوس ہوتب ہر فرض کے ساتھ  ایک فرض کی قضاادا کرتا رہے اور اس کے علاوہ بھی جو وقت ملے، اس میں قضاء نمازیں ادا کرے، ایک ہی وقت میں مختلف اوقات کی نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره 

(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت."

(کتاب الصلوۃ ، باب قضاء الفوائت جلد ۲ ص: ۷۶ ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144407100146
تاریخ24-01-2023

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں